مقدمہ
Introduction
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ درود و سلام ہو انبیاء و رسل میں سب سے معزز، ہمارے نبی محمد ﷺ پر، ان کے اہلِ خانہ پر اور ان کے تمام صحابہ پر۔ میری زندگی کے سب سے خوبصورت لمحات میں سے ایک وہ تھا جب میں نے اپنی کتاب کا پہلا مسودہ اپنے محبوب والدین کے تحفے کے طور پر پیش کیا۔ اس نئی کتاب کے ساتھ میں نے ان کے الفاظ اور ان کے مشاہدات میں خوشی اور لطف پایا۔ حقیقت میں میری محنت ان کی محنت ہے، کیونکہ بچہ اپنے والدین ہی کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ میں یہ بات اللہ کے اُس فضل کی طرف توجہ دلانے کے لیے کہہ رہا ہوں جو مجھ پر ہوا۔ میری فکری پیداوار کا بڑا حصہ ان کی مدد، حوصلہ افزائی اور نگرانی کے بغیر ممکن نہ ہوتا۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے ان کی رضا سے نوازے اور ان کی عمر کو نیک اعمال میں بڑھائے۔ میں نے اپنی لکھی ہوئی ہر کتاب میں انہیں شامل کرنا اپنی عادت بنا رکھی ہے۔ البتہ ایک استثنا تھا۔ اس کتاب کے موضوع اور عنوان نے میرے والدین کی طرف سے ایک ردِعمل پیدا کیا۔ یہ ردِعمل حیرت اور ایک طرح کی ناراضی سے بھرا ہوا تھا۔ ان کی حیرت ان کے دلوں میں جلتی ایمان کی آگ اور فکری گمراہی کے ایک خطرناک رجحان کی مذمت سے پیدا ہوئی تھی۔ گویا وہ کہہ رہے تھے: ’’آخر کس چیز نے ہمارے بیٹے کو اس بھول بھلیاں میں ڈال دیا؟‘‘ وہ کتاب ’’The Atheist Militia‘‘ تھی۔ اس صورتِ حال نے مجھے ایک واقعہ یاد دلا دیا۔ علمِ کلام کا ایک نامور عالم ایک راستے پر چل رہا تھا اور اس کے پیچھے درجنوں شاگرد تھے۔ ایک بوڑھی عورت نے پوچھا: ’’یہ کون ہے؟‘‘ اس سے کہا گیا: ’’کیا تم واقعی نہیں جانتیں؟ یہ وہ شخص ہے جس نے اللہ کے وجود پر ہزار دلائل پیش کیے ہیں!‘‘ اس نے کہا: ’’بیٹا، اگر اسے ہزار شبہات لاحق نہ ہوتے تو اسے ہزار دلائل کی ضرورت نہ پڑتی!‘‘ جب اس عورت کی بات عالم تک پہنچائی گئی تو اس نے کہا: ’’اے اللہ، میں تجھ پر اُس ایمان کا سوال کرتا ہوں جیسا ایمان بوڑھی عورتوں کا ہوتا ہے۔‘‘1
All praise is for Allah, Lord of the Worlds. May benediction and peace be upon the most honoured of the Prophets and Messengers, our Prophet Muhammad, his family, and all his Companions. One of the loveliest moments in my life was when I presented the first draft of my book as a gift to my beloved parents. With this new book, I found happiness and pleasure in their words and observations. In reality, my efforts are their efforts, as a child is but an extension of its parents. I say this to point out Allah’s favour upon me. Much of my intellectual output would not have happened were it not for their support, encouragement, and supervision. I ask Allah to honour me with their pleasure, and that He increases their age in good deeds. Involving them with every book I have written has been a habit of mine. There was an exception though. Its topic and title evoked a pushback from my parents. It was a pushback that was coloured with surprise and an indignation of sorts. Their surprise was spurred by the fire of faith that burned in them, and the denunciation of a dangerous pattern of theological deviance. It was as if they were saying, ‘What is it that landed our son in this maze?’ That book was The Atheist Militia. This situation reminded me of a story. A leading scholar of dialectic theology (kalām) was walking along a path, followed by dozens of students. An elderly woman asked, ‘Who is this?’ It was put to her, ‘Do you really not know? This is the man who has put forth a thousand proofs for the existence of Allah!’ She said, ‘My son, if he was not afflicted by a thousand doubts, he would not have been in need for a thousand proofs!’ When her words were related back to the scholar, he said, ‘O Allah, I ask for faith in You like that of elderly women.’1
اس لیے اوپر بیان کی گئی وجوہات کی بنا پر، شروع ہی سے میں قاری کے سامنے یہ بات ظاہر کرنے میں خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ میرا پختہ یقین ہے کہ اللہ کو پہچاننا، اس کی وحدانیت کا اقرار کرنا، اور اس کی ضرورت کا احساس کرنا انسان کی گہری فطری اور جبلی صفات ہیں۔ یہی وہ حالت ہے جو انسان کی فطرت سے سب سے زیادہ ہم آہنگ ہے، اور جو باطنی سکون اور قناعت کا باعث بنتی ہے۔ اس کے بغیر زندگی بے معنی ہو جاتی، اور انسانیت کے بہت سے وجودی سوالات جواب طلب رہتے، بلکہ ان کا کوئی جواب ہی نہ ہوتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس پہچان کی پختگی اور اس کا روح پر اثر، جتنا میں نے پہلے سوچا تھا اس سے کہیں زیادہ وسیع اور ہمہ گیر ہے۔ کئی برس پہلے میں نے ابن تیمیہ کا ایک بیان دیکھا جو اُس وقت میرے لیے حیرت انگیز تھا۔ اس میں انہوں نے روح کے اس فطری میلان کا ذکر کیا ہے کہ وہ خدا کو پہچانتی ہے، اور اسے بدیہی اور عقلی امور کے ساتھ جوڑا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: "خدا کی بنیادی معرفت فطری بھی ہے اور ضروری بھی۔ یہ معرفت روحوں میں ان بنیادی حسابی اصولوں سے بھی زیادہ پختہ ہے جیسے یہ کہ "ایک، دو کا نصف ہے"، یا طبعی علوم کے بنیادی اصولوں سے بھی زیادہ مضبوط ہے جیسے یہ کہ "ایک جسم بیک وقت دو جگہوں میں موجود نہیں ہو سکتا"۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے علوم محض وہ عبارات ہیں جنہیں اکثر لوگوں کی فطری استعداد نظرانداز کر سکتی ہے۔ رہی خدا کی معرفت، تو یہ ناممکن ہے کہ کوئی فطری استعداد اسے نظرانداز کر سکے۔"2
For the aforementioned reasons, right from the outset I am enthused to reveal to the reader that I fervently believe that recognising Allah , acknowledging His oneness, and recognising our need for Him are deeply innate and natural human dispositions. It is this state that is most aligned with the nature of man, leading to inner peace and contentment. Without it, life would be without meaning, and many existential questions on humanity would remain unanswered. In fact, they would have no answer at all. It seems that the firmness of this recognition and the influence it had on the soul is more sweeping than I first thought. Many years ago, I came across what I considered back then to be a surprising statement by Ibn Taymiyyah, where he discussed the existence of this natural predisposition of the soul in recognising the Divine, in conjunction with self-evident and rational positions. He states, ‘The core knowledge of the Divine is both natural and necessary. It is more firmly established in the souls than the fundamentals of mathematics such as “One is half of two”, or the fundamentals of natural knowledge such as “A body cannot simultaneously exist in two places”. This is because such items of knowledge are expressions that the innate predispositions of most people can disregard. As for the knowledge of the Divine, it is unimaginable that any natural predisposition is able to disregard it.’2
جب میں نے پہلی بار یہ عبارت دیکھی تو اپنے آپ سے پوچھا: ’کیا ذات باری تعالیٰ پر ایمان کی جڑ ان مثالوں سے زیادہ مضبوط ہے؟ میں اسے اس طرح نہیں دیکھ پاتا! اگرچہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ اللہ کی معرفت انسان کی فطرت میں رکھی گئی ہے، تو پھر کیوں ایسا ہے کہ میں اسے ان بدیہی مثالوں جتنا مضبوط محسوس نہیں کرتا؟‘ اس مسئلے کی کچھ پیچیدگیاں چند سال بعد میرے لیے حل ہوئیں۔ یہ اس وقت ہوا جب ابن تیمیہؒ کی وسیع و جامع کتاب ’بیان تلبیس الجہمیۃ‘ مکمل طور پر شائع ہوئی، جس میں مجھے ایک عمدہ عبارت ملی جہاں انہوں نے مخلوق پر اللہ کی بلندی کے اس عقیدے پر بحث کی ہے جو فطری طور پر سمجھا جاتا ہے: ’یہ علم ان کی جانوں سے چمٹا ہوا ہے۔ یہ اس سے اتنا ہی جدا نہیں ہو سکتا جتنا محسوس چیزوں اور طبعی امور کا فطری علم، جیسے ’ایک، تین کا تہائی ہے‘ اور ’کوئی جسم بیک وقت دو جگہوں پر موجود نہیں ہو سکتا‘۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری قسم کا علم ایسا ہے جس کی لوگوں کو عملاً ضرورت ہی نہیں، بلکہ شاید کسی کے ذہن میں وہ آئے ہی نہ۔ رہا اللہ کی بلندی کا علم، تو میں کہوں گا کہ اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اس کے تقاضوں اور مفہوم کی بھی ضرورت ہے، اور وہ ہے دعا، سوال، عاجزی، اور اس ذات کے سامنے انکساری جس کو پکارا جا رہا ہے، یعنی وہ ذات جو اوپر ہے۔‘3
When I first saw this passage, I asked myself, ‘Is the entrenchment of belief in the Divine stronger than these examples? I just cannot see it this way! Though I acknowledge that recognising Allah is innate to us, why is it that I do not feel that it is as strong as those self-evident examples?’ Some complexities of this issue were resolved for me a few years later. This was after the full publication of Ibn Taymiyyah’s encyclopaedic book Bayān Talbīs al-Jahmiyyah, in which I came across an excellent passage where he discussed the belief of the innately understood highness of Allah over His creation: ‘This knowledge clings onto their souls. It cannot be separated from it any more than the instinctive knowledge of tangibles and natural matters, such as “One is a third of three”, and “A body cannot simultaneously exist in two places”. This is because the latter is knowledge that they simply do not need; in fact, it may never even occur to a person. As for the knowledge of the highness of Allah, I would say that – in addition to people needing it – people are also in need of what it necessitates and means, which is supplication, asking, self-effacement, and humility unto the Divine – the One Above Who is being invoked.’3
علم اور عمل کی وہ جوڑی جو اللہ کی معرفت کے بارے میں پائی جاتی ہے، اس فہم کی قوت کا ایک پہلو ہے، ان دیگر غیر عملی معلومات کے مقابلے میں جنہیں انسان روزمرہ کی مشغولیات میں الجھے ہوئے ہمیشہ یاد نہیں رکھتا۔ اس بات کی تائید ابنِ تیمیہ اگلے صفحے پر یوں کرتے ہیں: "رہا اللہ کو جاننا، تو وہ کہیں زیادہ عظیم اور باعزت ہے، کیونکہ بنی آدم کے لیے علم اور ارادے دونوں اعتبار سے اسی کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔ وہ اسی کے لیے فطرتاً تیار کیے گئے ہیں۔ اس فطری علم و ارادے کا وجود دوسری معلومات کے وجود سے کہیں زیادہ پختہ اور گہرا ہے۔"4
The knowledge-action duet vis-à-vis recognising the Divine is one aspect that represents the strength of this understanding, compared to those other non actionable pieces of information that man may not always recollect as he grinds on with daily life. This is underscored by Ibn Taymiyyah on the next page: ‘As for knowing the Divine, it is far greater and more honourable, as it is necessary for the children of Adam in terms of both knowledge and intent to turn to Him. They were predisposed for this. The innate existence of this instinctive knowledge and intent is far more entrenched than the existence of other information.’4
اور مزید واضح الفاظ میں، انہوں نے چند صفحات بعد فرمایا: ’اللہ تعالیٰ، جلَّ جلالہ، نے اپنے بندوں کو دو چیزوں پر فطری طور پر پیدا کیا ہے: یہ کہ ان کے دل علم کے اعتبار سے اس کی تصدیق کریں، اور یہ کہ وہ عمل کے اعتبار سے، یعنی عبادت اور مدد طلب کرنے میں، اس سے محبت کریں اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کریں۔ چنانچہ وہ اس کی معرفت رکھنے اور اس کی خاطر عمل کرنے پر فطری طور پر مائل کیے گئے ہیں۔‘ تاہم، میں اب بھی اس بات پر الجھن میں تھا کہ ربوبیت کی پہچان روح میں کس حد تک راسخ ہے۔ یہاں تک کہ مجھے ابنِ تیمیہ کے جواب کا یہ اقتباس ملا: ’معلوم ہے کہ مختلف فیہ علم کی طرف کشش اس علم کی طرف کشش کی مانند نہیں ہوتی جس کی کوئی مخالفت نہ ہو۔ حساب (کیلکولس) یا طبیعیات جیسے تصورات کے علم کی طرف کشش – جیسے "ایک، دو کا نصف ہے"، "جسم ایک ہی وقت میں دو جگہوں پر نہیں ہو سکتا"، وغیرہ – دلوں میں اتنی راسخ نہیں ہے، اور نہ ہی اس کی کوئی سخت مخالفت پائی جاتی ہے۔‘ اور معاملہ یہی ہے۔ اللہ کے خلاف اٹھائے جانے والے مختلف شبہات – جو انسان کو اس کی فطری استعداد سے پھیرنے یا اسے کمزور کرنے کا باعث بن سکتے ہیں – دوسرے علوم پر کیے جانے والے اعتراضات سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس لیے ممکن ہے کسی کو یہ محسوس ہو کہ علوم اللہ کی نسبت زیادہ بدیہی ہیں۔ تاہم، اگر لوگوں کی روحیں پاکیزہ ہوتیں اور ان بیرونی رکاوٹوں کو درمیان سے ہٹا دیا جاتا، تو یقیناً یہی ہوتا کہ اللہ کی معرفت علوم کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط اور راسخ ہوتی۔
In more explicit terms, he went on to say just a few pages later, ‘Allah, Glory to Him, predisposed His servants to two things: that their hearts affirm Him in terms of knowledge, and that they love Him and are humble in front of Him in terms of practice, worship, and seeking assistance. They are thus predisposed to having knowledge of Him and acting for His sake.5 However, I was still puzzled as to what extent recognition of the Divine was entrenched in the soul. This was until I came across the following passage from Ibn Taymiyyah’s response: ‘It is known that the strength of attraction to disputed knowledge is unlike that attraction to unopposed knowledge. The attraction to knowledge of concepts like calculus or nature – such as “One is half of two”, “A body cannot simultaneously be in two places”, and so on – is not as entrenched in the hearts, nor is there any strong opposition to it.’6 And this is how it is. The various doubts that are raised against Allah – which can potentially cause man to turn away from or weaken his innate predisposition – are far more than objections against other sciences. One therefore might feel that the sciences are more self-evident than Allah. However, if people’s souls were pure and those external distractions were taken out of the equation, it would have most certainly been the case that knowing Allah would be far stronger and entrenched than the sciences.
تسلسلِ استدلال اور عقلی تشکیل کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ذاتِ الٰہی کی معرفت تمام عقلی تصورات میں سب سے زیادہ بدیہی ہونی چاہیے۔ اگر اسے تسلیم نہ کیا جائے تو کسی فطری علم کو ثابت کرنے، اس کی فطری حیثیت پر حکم لگانے، یا یہ کہنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ وہ کائنات، مادّے اور انسان کی فطرت سے بالاتر ہے۔ کسی بدیہی حقیقت کو ثابت کرنے کا دروازہ یہ ہے کہ پہلے اللہ پر ایمان لایا جائے۔ اس کے بغیر ایسا مربوط فلسفیانہ نظریہ قائم کرنا ممکن نہیں جو فطری اور جبلی تصورات کی تصدیق کرے۔ اسی بنا پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے جو ابنِ قیمؒ نے اپنے استاد (یعنی ابنِ تیمیہؒ) سے نقل کی، اللہ دونوں پر رحم فرمائے۔ انہوں نے فرمایا: ”اس شخص سے دلیل کا مطالبہ کیسے کیا جا سکتا ہے جو خود ہر چیز کی دلیل ہے؟“ (ابنِ تیمیہؒ) اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے:
From the viewpoint of the sequence analysis and cognitive construct, recognition of the Divine must be the most self-evident of all rational concepts. Without acknowledging Him, there would be no scope left to affirm any innate knowledge, to pass judgement on its instinctiveness, or to suggest that it is above and beyond the nature of the universe, matter, and man. The gateway to affirming any self-evident truth is to first believe in Allah . Without this, it is impossible to construct a coherent philosophical outlook that affirms instinctive and innate concepts. Based on this, one can understand what Ibn al-Qayyim reported from his teacher, may Allah have mercy on both of them. He said, ‘“How can you demand proof for someone who Himself is proof for everything?” He (i.e., Ibn Taymiyyah) used to frequently mention this couplet:
کسی بھی بات کا درست ہونا ذہنوں میں اس وقت ممکن نہیں، جب اس دن کے لیے دلیل درکار ہو۔7
“Nothing can be correct in the minds if the day requires proof.”7
یقیناً، جب ہم اللہ کے وجود کا ثبوت مانگتے ہیں تو گویا ہم دن کی روشنی میں چراغ جلانے لگتے ہیں۔ ایسا منظر کیا ہنسی کا باعث نہ ہوگا؟ تاہم، ہمیں کیا کرنا چاہیے جب ہمیں اس بات کی وضاحت کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہو؟ ایک قاری سوال کر سکتا ہے کہ ’کتاب کے مقدمے میں یہ بحث یہاں جلد بازی سے کیوں کی جا رہی ہے؟ اسے اُس مقام تک کیوں نہ موخر کیا گیا جہاں اس پر زیادہ مناسب انداز میں بحث ہو سکتی اور جہاں تفصیل، وضاحت اور دلائل بہتر طور پر پیش کیے جا سکتے؟‘ اس کا محرک یہ تاثر اجاگر کرنا ہے کہ اللہ کے وجود پر کوئی بھی تحقیق اور اس کے سب سے اہم شواہد کا پیش کرنا ایسا معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا جسے قاری لاشعوری طور پر بھی متنازع خیال کرے، یا یہ گمان کرے کہ اس کی صداقت ثابت کرنے کے لیے کوئی طویل گفتگو درکار ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ اس پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ بہت سے لوگ اس دھوکے میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کسی مسئلے کو بحث کے لیے پیش کرنا اور اسے تنقید کے تابع کرنا اس کے یقینی ہونے کو کمزور کر دیتا ہے، اور یہ عمل اس مسئلے کو جائز اختلافِ رائے کا نقطہ بنا دیتا ہے۔ ذرا ان بہت سے لوگوں کی حالت پر غور کیجیے جو فطری اور بدیہی عقلی امور کے بارے میں ہیں۔ دیکھیے کہ ان کا کیا حال ہوا جب وہ علمِ ادراک کے فلسفیانہ مکاتب کے سامنے آئے، اور کس طرح خود اصل اور بدیہی حقائق متزلزل ہو گئے، محض اس لیے کہ یہ مسئلہ بھی دیگر مسائل کی طرح آمد و رفت کا موضوع بن گیا۔ ان فلسفیانہ مباحث سے گزرنے اور ان میں خود کو غرق کرنے کے بعد، میں وہ نتیجہ بیان کرنا چاہتا ہوں جو میں نے اخذ کیا ہے۔ بدیہی اور فطری سچائیوں پر شک ڈالنے والے انحرافی دعوے گھڑنا مشکل نہیں۔ اگر کوئی شخص اس مسئلے کی بدیہی حیثیت کو تھامے نہ رکھے جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے، تو وہ لازماً اُس قسم کے شکوک میں جا گرے گا جو اس بنیاد کو ہلا سکتے ہیں جس پر مربوط اور عقلی علمی ڈھانچہ قائم ہے۔
Indeed, when we ask for proof of Allah, it is as if we are lighting candles during an already bright day. Such a scene would provoke laughter, would it not? However, what are we supposed to do when we have been forced into a situation to clarify this? A reader may ask, ‘Why the haste in discussing this issue here, in the introduction of the book? Why not defer the discussion to where it can be more appropriately discussed and where the details, explanation, and proofs can be properly presented?’ The motivation for this is to underscore the notion that any research on the existence of Allah and offering up its most important evidence cannot be treated as an issue which a reader may even subconsciously deem to be contentious, or presume that it requires some lengthy discourse to prove its veracity. This is especially given that there are objections raised to it. Many people are duped into believing that offering up an issue for debate and subjecting it to critique weakens its conclusiveness, and that this process renders the issue into a point of legitimate debate. Consider the state of many people vis-à-vis instinctive and self-evident matters of rationality. Look at what became of them when they were exposed to schools of cognitive philosophy, and how the very core and self-evident truths were shaken – all just because this issue became one of to-and-fro, like any other. After barging shoulders and engrossing myself with many of those philosophical debates, I want to share the conclusion I have deduced. It is not difficult to construct deviant assertions that cast doubt on self-evident and instinctive truths. If a person does not hold on to the self-evident nature of the issue being objected to, he will invariably fall into the type of scepticism that can undermine the foundation upon which a coherent and rational knowledge structure rests.
ہو، ورنہ تم آج تک اسی پر یقین رکھتے۔ شاید عقل سے بالاتر کوئی اور منصف بھی ہو جو اگر ظاہر ہو جائے تو عقل کو جھوٹا ثابت کر دے، جیسے عقل نے ہمیں غلط ثابت کیا ہے۔ اور اگر ایسا کوئی تیسرا فیصلہ کرنے والا ابھی ظاہر نہیں ہوا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ موجود ہی نہ ہو۔" اس دلیل کا میرے پاس کچھ دیر تک کوئی جواب نہ تھا، اور نیند کے احوال پر غور نے میرے شک کو اور گہرا کر دیا۔ میں نے سوچا: "کیا تم نہیں دیکھتے کہ سوتے ہوئے تم اپنے خوابوں کو بلاشبہ حقیقی سمجھتے ہو؟ جاگنے پر تم پہچان لیتے ہو کہ وہ بے بنیاد خیالی تصویروں کے سوا کچھ نہ تھے۔ پھر کون تمہیں اُن تصورات کے قابلِ اعتماد ہونے کی ضمانت دے سکتا ہے جو جاگتے ہوئے تم حواس اور عقل سے حاصل کرتے ہو؟ تمہاری موجودہ حالت کے اعتبار سے شاید وہ حقیقی ہوں، مگر یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی اور حالت میں داخل ہو جاؤ جس کی نسبت تمہاری موجودہ حالت سے وہی ہو جو تمہاری نیند کی حالت سے اس (موجودہ) حالت کی ہے۔ اُس نئے عالم میں تم جان لو گے کہ عقل کے نتائج محض خیالی تصویریں تھے۔" ممکن ہے یہی وہ حالت ہو جسے صوفیہ "حال" کہتے ہیں، یعنی وہ کیفیت جس میں وہ اپنے آپ میں مستغرق ہو کر اور حواس کے ادراک کو معطل کر کے ایسے مشاہدات دیکھتے ہیں جو عقل کی رسائی سے باہر ہوتے ہیں۔ شاید موت بھی وہی حالت ہو، اُس فرمان کے مطابق جو انبیاء کے سردار ﷺ نے ارشاد فرمایا: "لوگ سوئے ہوئے ہیں، جب وہ مرتے ہیں تو جاگ اٹھتے ہیں۔" ہماری موجودہ زندگی آخرت کے مقابلے میں شاید محض ایک خواب ہے، اور انسان مرنے کے بعد اُن چیزوں کو دیکھے گا جو اب اُس کی آنکھوں کے سامنے ہیں، اُن کے بالکل برعکس۔ تب وہ قرآن کے اُس قول کو سمجھے گا: "آج ہم نے تیرے پردے ہٹا دیے ہیں، پس تیری نگاہ آج تیز ہے۔" {ق: 22} ایسے خیالات میرے عقل کو متزلزل کرنے لگے، اور میں نے ان سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈنا چاہا۔ مگر کیسے؟ اس الجھن کی گرہ کھولنے کے لیے ایک دلیل درکار تھی۔ اور دلیل لازماً ابتدائی مسلمات پر قائم ہوتی ہے، اور انہی مسلمات ہی میں تو مجھے شک تھا۔ اس ناخوشگوار حالت میں تقریباً دو ماہ گزرے، جس کے دوران میں، یہ سچ ہے کہ صراحۃً یا پیشے کے طور پر نہیں، بلکہ اخلاقی اور جوہری طور پر، ایک مکمل شکّی تھا۔’ ‘آخرکار خدا نے مجھے اس ذہنی بیماری سے شفا بخشنا پسند فرمایا؛ میرا ذہن ہوش اور توازن واپس پا گیا: عقل کے بنیادی مفروضات اپنی تمام تر پختگی اور قوت کے ساتھ میرے ساتھ لوٹ آئے۔ میری نجات دلائلِ منطقی کے کسی سلسلے کی بدولت نہیں، بلکہ اس نور کی بدولت تھی جو خدا نے میرے دل میں اتارا – وہ نور جو ہر علم کی دہلیز کو منور کرتا ہے۔ یہ گمان کرنا کہ یقین صرف باقاعدہ دلائل پر مبنی ہو سکتا ہے، خدا کی بے کراں رحمت کو محدود کرنا ہے۔ کسی نے نبیﷺ سے کتابِ الٰہی کی اس آیت کی تفسیر پوچھی: {خدا جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے}۔ نبیﷺ نے فرمایا: “یہ اس نور کے بارے میں ہے جو خدا دل میں ڈالتا ہے۔” پوچھا گیا: “انسان اس نور کو کیسے پہچانے؟” فرمایا: “دنیائے فریب سے بے رغبتی اور ابدی دنیا کی طرف پوشیدہ کشش کے ذریعے۔”ﷺ ایک اور موقع پر فرمایا: “خدا نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا، پھر اس پر اپنا نور ڈالا۔” اسی نور کی مدد سے حق کی تلاش جاری رکھنی چاہیے۔ چونکہ اس کی رحمت سے یہ نور وقتاً فوقتاً انسانوں پر اترتا ہے، اس لیے ہمیں اس کے لیے ہمیشہ چوکس رہنا چاہیے۔ اس کی تائید رسولﷺ کے ایک اور فرمان سے بھی ہوتی ہے: “خدا تم پر کچھ مخصوص اوقات میں اپنی رحمت کے جھونکے بھیجتا ہے؛ ان کے لیے تیار رہو۔”میرا مقصد اس بیان سے یہ ہے کہ دوسروں کو سمجھاؤں کہ ہمیں حق کی تلاش کتنی سنجیدگی سے کرنی چاہیے، کیونکہ وہ ایسے نتائج تک پہنچاتی ہے جن کا ہم نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا۔ بنیادی مفروضات کی تلاش کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں موجود رہتے ہیں؛ اگر ہم ایسی تلاش کریں تو وہ ہماری گرفت سے مسلسل پھسلتے ہی نظر آتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اپنی تحقیق کو معمول کی حدوں سے آگے لے جاتے ہیں، وہ اس شک سے محفوظ رہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی دسترس میں موجود چیز کی تلاش میں غفلت برتی۔ 10 اس عبارت کے اختتام میں کئی سبق اور حکمتیں پائی جا سکتی ہیں۔
ہذا هو المحور المركزی للکتاب۔ أرجو أن يحقق الکتاب أهدافه دون أن يدخل فی نوع من الجدل المنفصل عن الصورة التی يتجلى بها الإلحاد فعلاً فی الوقت الراهن۔ فليس القصد عرض المناقشات الکلامية والفلسفية القديمة التی استُعملت لإثبات وجود الله، مثل دليل حدوث الأجسام، ودليل التركيب، ودليل التخصيص والعناية، ولا المباحث المتعلقة بها۔ بل القصد أن يکون النقاش متوافقاً مع الخطاب الدائر اليوم۔ وهذه هی النقاشات التی أجريتها مع بعض شباب اليوم ممن تأثروا بالخطاب الإلحادی۔ کما أنه دراسة لکثير من الشبهات والاعتراضات التی يثيرها الملاحدة المعاصرون۔ ولا ينبغی أن أخفی على القراء أننی شخصياً متحمس جداً للدفاع عن علم الکلام السنی، وبما ثبت فی الکتب والمناظرات السنية التی دوّنها علماء أهل السنة فی هذا الباب، ولا سيما کتابات شيخ الإسلام ابن تيمية۔ غير أننی سأحاول کبح حماستی لمذهب أهل السنة، لأقدم مادة وأفكاراً أرجو أن تکون واضحة، سهلة الفهم، منعشة، ونافعة للمجتمع بأسره۔ وأختم هذه المقدمة بالإهداء إلى زوجتی الحبيبة وبناتی الحبيبات: منی، وفاطمة، وشيخة، وبلسم، على تضحياتهن العظيمة وصبرهن الذی أتاح لی إتمام هذا البحث، فجزاهن الله عنی خير الجزاء۔ وأشکر الدکتور إبراهيم الرماح على مراجعته مسودة ما قبل النشر، وعلى ملاحظاته القيمة، فجزاه الله ثواباً وأجراً۔ وأسأل الله أن يرزقنا جميعاً القدرة على الخير، وأن يُجری الحق على قلوبنا وألسنتنا، وهو خير من سُئل۔
So this is the central idea of the book. I hope it will achieve its aims without delving into the type of polemic that is detached from how atheism actually manifests itself today. The purpose is not to present or discuss the old theological or philosophical arguments used to establish Allah’s existence, such as the argument from the temporality of bodies, argument from composition, argument from special design, or the discussions surrounding these. Rather, the aim is to have a discussion that is aligned to the discourse occurring today. They are the types of discussions I have been having with some of today’s youth who have been impacted by atheist discourse. It is also the study of many of the doubts and objections raised by contemporary atheists. I should not hide from the readership that, personally speaking, I am highly enthusiastic about defending Sunni dialectic theology, and by what is recorded in the Sunni books and debates by Sunni scholars on this subject, especially the writings of Shaykh al-Islam Ibn Taymiyyah . However, I will try to curb my strong views in favour of Sunnism to offer material and ideas that I hope will be clear, easy to understand, refreshing, and beneficial to wider society. I end this introduction by paying homage to my beloved wife and my beloved daughters – Munā, Fāṭimah, Shaykah, and Balsam – for their great sacrifices and patience that have allowed me to complete this research. May Allah grant them the best of rewards on my behalf. I thank Dr. Ibrāhīm al-Rammāḥ for reviewing the pre-publication draft, and for his excellent feedback – may Allah decree reward and recompense for him. I ask Allah to grant us all the ability for good, and that He allow the truth to emanate from our hearts and tongues. He is the best requestee.
اس واقعے کو عام طور پر رازیؒ سے منسوب کیا جاتا ہے، تاہم میں اس کا معتبر ماخذ تلاش نہیں کر سکا۔ میں نے اسے صرف اس سبق کی وجہ سے ذکر کیا ہے جو یہ دیتا ہے، اور اس بات کی طرف توجہ دلانے کے لیے کہ اس میں خاصی حد تک سچائی پائی جاتی ہے: یہ لوگوں کو اللہ کی معرفت کی فطری نوعیت کی یاد دلاتا ہے، اور اس حقیقت کی بھی کہ اس معرفت کو کسی خاص دلیل کی ضرورت نہیں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کا فطرت پر کوئی داغ نہ لگا ہو۔ ابن حجرؒ کی *لسان المیزان* (6/319) میں رازیؒ کے تذکرے میں یہ لکھا ہے: ’’وہ دینی بنیادوں میں گہری مہارت رکھتے تھے، مگر کہا کرتے تھے: جو شخص بوڑھی عورتوں کے عقیدے پر قائم رہا، وہ کامیاب ہو گیا۔‘‘ بوڑھی عورتوں کا دین اس صورت میں قابلِ تعریف وصف ہو سکتا ہے جب ایمان کا حصول فطرت کے راستے سے ممکن ہو۔ *نفح الطیب من غصن الاندلس الرطیب* (5/263) میں لکھا ہے: ’’فارابی (Alpharabius) اکثر ’’اے میرے رب، میں تجھ ہی سے شکوہ کرتا ہوں‘‘ کہا کرتے تھے، اس قدر کثرت سے کہ ان کی گفتگو کے بہت سے ایسے مواقع پر بھی یہ الفاظ آ جاتے جہاں یہ موزوں نہ ہوتے، اور ان کے اسلوبِ کلام سے ناواقف لوگ حیران رہ جاتے۔ انھوں نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ فخر (رازیؒ) ایک صوفی شیخ کے پاس سے گزرے۔ شیخ سے کہا گیا: ’یہ شخص خالق پر ہزار دلائل پیش کر سکتا ہے، کیا آپ ان کے پاس جانا چاہتے ہیں؟‘ شیخ نے کہا: ’اس کی عزت کی قسم، اگر اس نے واقعی اسے پہچانا ہوتا تو وہ اسے دلیل سے ثابت کرنے کی کوشش ہی نہ کرتا۔‘ یہ خبر امام (فخر الدین الرازیؒ) تک پہنچی تو انھوں نے کہا: ’ہم اسے پردے کے پیچھے سے جانتے ہیں، وہ بغیر کسی پردے کے اسے دیکھتے ہیں۔‘‘ میں یہاں پیش کی گئی عمومی باتوں میں کچھ مسائل محسوس کرتا ہوں۔ اسی سے ملتا جلتا واقعہ ذہبیؒ نے اپنی *سیر اعلام النبلاء* (22/112) میں نجم الدین کبریٰؒ کے تذکرے میں ذکر کیا ہے: ’’کثیر التصانیف مصنف فخر الدین رازیؒ ان کے پاس گئے۔ ایک فقیہ نے اللہ کی معرفت اور توحید کے بارے میں ان سے طویل بحث کی۔ پھر دونوں نے شیخ سے علمِ معرفت کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے کہا: ’’یہ ایسا علم ہے جو کبھی زائل نہیں ہوتا، اور جو نفوس پر خود بخود ظاہر ہو جاتا ہے۔‘‘ فخر الدین نے ان سے پوچھا: "اس مقام تک کوئی کیسے پہنچے کہ اسے حاصل کر لے؟" انہوں نے کہا: "جس سرداری اور خوش بختی میں تم اس وقت ہو، اسے چھوڑ دینے سے۔" اس نے کہا: "یہ میں نہیں کر سکتا۔ رہے اس کے متبادل، تو وہ میں کر سکتا ہوں، اور وہ ہیں زہد، گوشہ نشینی، اور کسی شیخ کی صحبت۔" اللہ کی بنیادی معرفت بغیر کسی محنت کے روح پر نقش ہو جاتی ہے، کیونکہ یہی وہ فطرت ہے جس پر اللہ نے اپنے بندوں کو پیدا کیا ہے۔
1 This story is commonly attributed to Rāzī, though I have been unable to reliably source it. I have mentioned it only for the lesson it offers, and to point out that it bears a considerable amount of truth: it reminds people of the innate nature of knowing Allah and the fact that it is not in need of specific evidence, especially for those whose fiṭrah remains unblemished. On Rāzī’s entry in Ibn Ḥajar’s Lisān al-Mīzān (6/319), it reads: ‘Though he was deeply proficient in the religious fundamentals, he used to say, “Whoever adheres to the faith of old women, he would be successful.”’ The religion of old women would be a praiseworthy trait only for those whose acquisition of faith can be achieved by way of fiṭrah. In Nafkh al-Ṭīb min Ghuṣn al-Andalus al-Raṭīb (5/263), it says, ‘Fārābī (Alpharabius) used to frequently utter “O my Lord, to You I complain” so frequently that this could be found in many instances of his speech that were not exactly suited to it, thus leaving those unfamiliar with his style of speaking surprised. He said, “I have been told that Fakhr (Rāzī) passed by a sufi shaykh. The shaykh was told, ‘This man can provide a thousand proofs for the Maker. Do you want to go over to him?’ He said, ‘By His honour, had he truly known Him, he would never have attempted to prove Him in the first place.’ This news reached the Imam (Fakhr al-Dīn al-Rāzī) – he said, ‘We know Him from behind the veil; they (i.e., sufis) see Him without any veil.’” I do note some problems with the generalisations made here. Similar to this story is what Dhahabī mentioned in his Siyar Aʿlām al-Nubalā’ (22/112), in the biography of Najm al-Dīn al-Kubrā: ‘The prolific author Fakhr al-Dīn al-Rāzī went to him. A jurist debated him at length on the cognition and monotheism of Allah. Then the two asked the shaykh on the science of cognition – he said, “This is irreversible knowledge that simply appears to souls.” Fakhr al-Dīn asked him, “How does one reach the station to attain it?” He said, “By abandoning the leadership and good fortune you are currently in.” He said, “This I cannot do. As for its substitutes – which I can – they are asceticism, seclusion, and the companionship of a shaykh.”’ The basic knowledge of Allah is imprinted onto the soul without exertion, as this is the fiṭrah upon which Allah created His servants.