9.1 ترقی پسندی اور فرعونوں کے وارثین
9.1 Progressivism And The Inheritors Of The Pharaohs
قرآن تاریخ کے بارے میں ترقی پسندانہ نظریہ نہیں رکھتا۔ جب آپ قرآن میں انبیاء، موسیٰؑ، عیسیٰؑ، یوسفؑ اور ابراہیمؑ کے حالات پڑھیں، تو آپ کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ، "یہ ماضی کے قصے ہیں — ہم جدید دور میں رہتے ہیں۔ ہماری دنیا مختلف ہے، ہمارے معاشرے، ہمارے ادارے اور ہماری حکومتیں زیادہ ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہیں۔" نہیں۔ ایک لمحے کے لیے بھی ایسا ہرگز نہ سوچیں کیونکہ یہ کفار کی سوچ ہے جیسا کہ اللہ نے خود قرآن میں ذکر فرمایا ہے، "کافر کہتے ہیں کہ یہ تو محض قدیم لوگوں کے قصے ہیں۔" اللہ تعالیٰ ہمیں انبیاء اور ان کے دشمنوں کی جدوجہد کے بارے میں تفصیلی تاریخی معلومات ایک وجہ سے فراہم کرتا ہے۔ کیونکہ یہ وہی جدوجہد ہے جس کا سامنا ہم آج کر رہے ہیں۔ جس طرح آج "انبیاء کے وارث" زندہ ہیں، یعنی صالح علماء، اسی طرح ابلیس کے وارث بھی موجود ہیں۔ فرعون کے وارث بھی موجود ہیں۔ ابو جہل اور ابو لہب کے وارث بھی موجود ہیں۔ آئیے اس حقیقت کے بارے میں اندھے نہ بنیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس سے بے خبر رہ جائیں کیونکہ ہم نے اپنے رب کی واضح تنبیہات پر توجہ نہیں دی۔