دفعہ 61
Article 61
محکمہ جنگ فوج اور پولیس کے مسلح افواج سے متعلق تمام امور، معاہدوں، فرائض، فوجی ساز و سامان اور اس جیسی دیگر چیزوں کا ذمہ دار ہے۔ وہ فوجی کالجوں، مہمات اور اسلامی ثقافت اور عام ثقافت سے متعلق ہر اس چیز کے بھی ذمہ دار ہیں جو فوج کے لیے ضروری ہے، نیز جنگ اور اس کی تیاری سے متعلق ہر چیز کے بھی، اور اس شعبے کے سربراہ کو امیرِ جہاد کہا جاتا ہے۔
The War Department is in charge of all the affairs connected to the armed forces of the Army and police, and the treaties, tasks, military equipment and similar. They are also responsible for the military colleges, expeditions and everything that is necessary from the Islamic culture and the general culture necessary for the Army, as well as everything connected to war and its preparation, and the head of this department is called the Amir of Jihad.
جنگ کا محکمہ ریاست کے اداروں میں سے ایک ہے، اور اس کے سربراہ کو جہاد کا مینیجر کہنے کے بجائے امیرِ جہاد کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ فوج کے قائدین کو امراء کہہ کر پکارتے تھے۔ ابن سعد نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
The war department is one of the State’s institutions, and its head is called the Amir of Jihad, rather than the manager of Jihad. This is because the Messenger (pbuh) used to call the leaders of the Army Umara’. Ibn Sa’d narrated that the Messenger of Allah (pbuh) said.
. أَمِيرُ النَّاسِ زَيْدُ بن حَارِثَةَ، فَإِنْ قُتِلَ فَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَإِنْ قُتِلَ فَ عَبْدُ « » اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَإِنْ قُتِلَ فَ لْيَ رْتَضِ المُسْلِمُونَ بَ يْ نَ هُمْ رَجُلاً فَ يَجْعَلُوهُ عَلَيْهِمْ .
. أَمِيرُ النَّاسِ زَيْدُ بن حَارِثَةَ، فَإِنْ قُتِلَ فَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَإِنْ قُتِلَ فَ عَبْدُ « » اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَإِنْ قُتِلَ فَ لْيَ رْتَضِ المُسْلِمُونَ بَ يْ نَ هُمْ رَجُلاً فَ يَجْعَلُوهُ عَلَيْهِمْ .
"لوگوں کا امیر زید بن حارثہ ہے؛ اگر وہ شہید ہو جائے تو امیر جعفر بن ابی طالب ہے؛ اور اگر وہ بھی شہید ہو جائے تو امیر عبداللہ بن رواحہ ہے؛ اور اگر وہ بھی شہید ہو جائے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے میں سے ایک شخص کا انتخاب کریں اور اسے اپنا امیر بنا لیں۔" البخاری نے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا:
“The leader (Amir) of the people is Zayd Ibn Haritha; if killed, then the Amir is Ja’far Ibn Abi Talib; and killed, the Amir is ’Abdullah Ibn Ruwahah; and if he was killed, let Muslims choose one man from among them and make him their Amir”. Al-Bukhari narrated that ’Abdullah Ibn Umar (ra) said:
. »... فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَة أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ « .
. »... فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَة أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ « .
"رسول اللہ ﷺ نے غزوہ موتہ میں زید بن حارثہ کو امیر مقرر فرمایا..." اور البخاری نے سلمہ بن اکوع سے روایت کی ہے:
“The Messenger of Allah (pbuh) appointed Zayd Ibn Haritha as Amir in the expedition of Mu’ta…” and Al-Bukhari narrated from Salamah b. Al-Akwa’:
« وَغَزَوْتُ مَعَ زَيْدٍ، وَكَانَ یَؤُمُّنَا »۔ "میں نے زید کے ساتھ ایک مہم میں شرکت کی؛ انہیں ہمارے امیر مقرر کیا گیا تھا"۔ البخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے کہ عبداللہ ابن عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا:
. » وَغَزَوْتُ مَعَ زَيْدٍ، وَكَانَ ي ؤَُمِّ رُهُ عَلَيْ نَا « . “I went on an expedition with Zayd; he was appointed Amir over us”. Al-Bukhari and Muslim narrated that ’Abdullah Ibn Umar (ra) said:
. بَ عْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَ عْضُ النَّاسِ فِي بَ عَثَ النَّبِيُّ « أَنْ تَطْعُنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَ قَدْ كُنْتُمْ تَطْعُنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ : إِمَارَتِهِ، فَ قَالَ النَّبِيُّ »... قَ بْلُ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلإِمَارَة .
. بَ عْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَ عْضُ النَّاسِ فِي بَ عَثَ النَّبِيُّ « أَنْ تَطْعُنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَ قَدْ كُنْتُمْ تَطْعُنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ : إِمَارَتِهِ، فَ قَالَ النَّبِيُّ »... قَ بْلُ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلإِمَارَة .
نبی ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا اور اس کے امیر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ کچھ لوگوں نے اسامہ رضی اللہ عنہ کی قیادت پر تنقید کی (برا بھلا کہا)۔ چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا، "اگر تم لوگ اسامہ رضی اللہ عنہ کی قیادت پر تنقید کر رہے ہو، تو تم نے اس سے پہلے ان کے والد کی قیادت پر بھی تنقید کی تھی۔ لیکن اللہ کی قسم! وہ (یعنی زید رضی اللہ عنہ) قیادت کے مستحق تھے۔" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معرکہ موتہ کے لشکر کو لشکرِ عمرہ کہا کرتے تھے۔ مسلم نے بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی جنہوں نے کہا:
“The Prophet (phuh) sent an army detachment and made Usama bin Zaid its commander. Some people criticized (spoke badly of) Usama's leadership. So Allah's Prophet (phuh) got up and said, "If you people are criticizing Usama's leadership, you have already criticized the leadership of his father before. But Waaimullah (i.e., By Allah), he (i.e. Zaid) deserved leadership” The companions, may Allah be pleased with them, used to call the Army of Mu’tah the Army of Umara’. Muslim narrated from Buraydah who said:
. »... إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاه كَانَ رَسُولُ اللَّهِ « .
. »... إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاه كَانَ رَسُولُ اللَّهِ « .
"جب بھی رسول اللہ ﷺ کسی کو لشکر یا دستے کا امیر مقرر فرماتے، تو انہیں خاص طور پر نصیحت فرماتے"۔
“Whenever the Messenger of Allah (pbuh) appointed anyone as a leader of an army or detachement, he would especially exhort him”.
جیسا کہ مضمون میں ذکر کیا گیا ہے، محکمہ جنگ مسلح افواج سے متعلق تمام معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ جنگ کرنے والے کافروں کے خلاف جاسوس بھیجنے کا کام بھی محکمہ جنگ کا ہی ہے اور اس مقصد کے لیے ایک خصوصی شعبہ قائم کیا جاتا ہے۔ اس کے دلائل رسول اللہ ﷺ کی زندگی سے بخوبی معروف ہیں:
The war department takes charge of all the issues connected to the armed force as mentioned in the article. The task of sending spies against the belligerent disbelievers is also the role of the war department and a special section is created for this purpose. The evidences for this are well known from the life of the Messenger (pbuh) :
تیاری کے لیے دلائل اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) کے کلام ہیں۔
The evidences for preparation being the words of Allah (swt).
”اور ان کے مقابلے میں جتنی بھی طاقت اور جنگی گھوڑے تیار کر سکو، تیار رکھو تاکہ تم اس کے ذریعے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن اور ان کے علاوہ دوسروں کو خوفزدہ کر سکو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے، اس کا تمہیں پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تمہارے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی۔“ (سورۃ الانفال 8:60)
“And prepare against them whatever you are able of power and of steeds of war by which you may terrify the enemy of Allah and your enemy and others besides them whom you do not know [but] whom Allah knows. And whatever you spend in the cause of Allah will be fully repaid to you, and you will not be wronged.” (TMQ 8:60).
اور ابن سعد نے الطبقات میں ماخول سے جو روایت کی ہے۔۔
And what was reported by Ibn Sa’d in Al-Tabaqat from Makhul..
. نَصَبَ المِنْجَنِيقَ عَلَى أَهْلِ الطَّائِفِ أَرْبَعِينَ يَ وْم اً" أَنَّ النَّبِيَّ « .
. نَصَبَ المِنْجَنِيقَ عَلَى أَهْلِ الطَّائِفِ أَرْبَعِينَ يَ وْم اً" أَنَّ النَّبِيَّ « .
"نبی ﷺ نے چالیس دن تک طائف کی قلعہ بندیوں کے خلاف منجنیق نصب رکھی۔" اور ابن ہشام نے اپنی سیرت میں ذکر کیا ہے۔
“The Prophet (phuh) set up the ballista against the fortifications of Ta’if for forty days”. And Ibn Hisham mentioned in his Sirah.
. » أَوَّلُ مَنْ رَمَى فِي الإِسْلاَمِ بِالمِ نْجَنِيقِ حَدَّثَنِي مَنْ أَثِقُ بِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ « .
. » أَوَّلُ مَنْ رَمَى فِي الإِسْلاَمِ بِالمِ نْجَنِيقِ حَدَّثَنِي مَنْ أَثِقُ بِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ « .
"کسی قابلِ اعتماد شخص نے مجھے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اسلام میں سب سے پہلے منجنیق استعمال کرنے والے تھے۔"
“Someone I trust narrated to me that the Messenger of Allah (pbuh) was the first to use ballista in Islam”.
تربیت کے لیے دلائل: مسلم نے عکبہ بن عامر سے روایت کی ہے جنہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر ہوتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے سنا۔
The evidences for training: Muslim reported from ’Uqbah Bin Amir who said: I heard the Messenger of Allah (pbuh) say while on the pulpit.
”اور ان کے مقابلے میں جو کچھ تم طاقت میں سے (جمع) کر سکو، تیار رکھو” – خبردار، طاقت تیر اندازی میں ہے، طاقت تیر اندازی میں ہے، طاقت تیر اندازی میں ہے۔ امام البخاری نے سلمہ بن اکوع سے روایت کی ہے جنہوں نے کہا: ارْمُوا (تیر چلاؤ)۔
“And prepare against them whatever you are able of power” – Beware, strength consists in (reside or lie) archery, strength consists in iarchery, strength consists in archery”. Al- Bukhari reported from Salama Bin Al-Akwa’ who said ارْمُوا :
. عَلَى ن فََرٍ مِنْ أَسْلَمَ يَ نْتَضِلُونَ، فَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ مَرَّ النَّبِيُّ « بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا، ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلاَنٍ، قَالَ: فَأَمْسَكَ أَحَدُ مَا لَكُمْ لاَ تَ رْمُونَ ؟ فَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، : الْفَرِيقَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ، فَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ » نَ رْمِي وَأَنْتَ مَعَهُمْ ؟ قَالَ: ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ .
. عَلَى ن فََرٍ مِنْ أَسْلَمَ يَ نْتَضِلُونَ، فَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ مَرَّ النَّبِيُّ « بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا، ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلاَنٍ، قَالَ: فَأَمْسَكَ أَحَدُ مَا لَكُمْ لاَ تَ رْمُونَ ؟ فَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، : الْفَرِيقَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ، فَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ » نَ رْمِي وَأَنْتَ مَعَهُمْ ؟ قَالَ: ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ .
“Bani Isma`il ! Practice archery as your father Isma`il was a great archer. Keep on throwing arrows and I am with Bani so-and-so." So one of the parties ceased throwing. Allah's Prophet (phuh) said, "Why do you not throw?" They replied, "How should we throw while you are with them (i.e. on their side)?" On that the Prophet (phuh) said , "Throw, and I am with all of you” And Muslim reported that: . أَنَّ فُ قَيْمًا اللَّخْمِيَّ قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: تَخْتَل فُ بَ يْنَ هَذَيْنِ الْغَرَضَيْنِ وَأَنْتَ « لَمْ أُعَانِيهِ، قَالَ كَبِيرٌ يَشُقُّ عَلَيْكَ، قَالَ عُقْبَةُ: لَوْلاَ كَلاَمٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ الْحَارِثُ: فَ قُلْتُ لاِبْنِ شَمَاسَةَ: وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ: مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَ رَكَهُ فَ لَيْسَ » مِنَّا، أَوْ قَدْ عَصَى .
“Bani Isma`il ! Practice archery as your father Isma`il was a great archer. Keep on throwing arrows and I am with Bani so-and-so." So one of the parties ceased throwing. Allah's Prophet (phuh) said, "Why do you not throw?" They replied, "How should we throw while you are with them (i.e. on their side)?" On that the Prophet (phuh) said , "Throw, and I am with all of you” And Muslim reported that: . أَنَّ فُ قَيْمًا اللَّخْمِيَّ قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: تَخْتَل فُ بَ يْنَ هَذَيْنِ الْغَرَضَيْنِ وَأَنْتَ « لَمْ أُعَانِيهِ، قَالَ كَبِيرٌ يَشُقُّ عَلَيْكَ، قَالَ عُقْبَةُ: لَوْلاَ كَلاَمٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ الْحَارِثُ: فَ قُلْتُ لاِبْنِ شَمَاسَةَ: وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ: مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَ رَكَهُ فَ لَيْسَ » مِنَّا، أَوْ قَدْ عَصَى .
فقیم اللخمی نے عقبہ بن عامر سے کہا: آپ ان دو اہداف کے درمیان بار بار آتے جاتے ہیں اور آپ بوڑھے ہو چکے ہیں، اس لیے آپ کو بہت مشکل ہوگی۔ عقبہ نے کہا: اگر میں نے نبی کریم ﷺ سے کوئی بات نہ سنی ہوتی تو میں خود کو اس مشقت میں نہ ڈالتا۔ حارث (راویوں کی سند میں سے ایک) نے کہا: میں نے ابن شماسہ سے پوچھا: وہ کیا بات تھی؟ انہوں نے بتایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے تیر اندازی سیکھی اور پھر اسے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے، یا وہ (نبی کریم ﷺ کی) نافرمانی کا مرتکب ہوا ہے۔
“Fuqaim Al- Lakhmi said to Uqba b. Amir: You frequent between these two targets and you are an old man, so you will be finding it very hard. 'Uqba said: But for a thing I heard from the Holy Prophet (phuh) (may peace be upon him), I would not strain myself. Harith (one of the narrators in the chain of transmitters) said: I asked Ibn Shamasa: What was that? He said that he (the Holy Prophet (phuh)) said: Who learnt archery and then gave it up is not from us. or he has been guilty of disobedience (to Allah's Prophet (phuh) )”.
اور ابو داؤد نے ایک روایت نقل کی ہے جس کی تصدیق الحاکم نے کی اور الحذبی نے بھی اس کی تائید کی ہے – اور الفاظ ابو داؤد کے ہی ہیں – خالد بن زید سے کہ انہوں نے کہا: میں عقبہ بن عامر کے خلاف تیر اندازی کیا کرتا تھا، چنانچہ اس دن وہ میرے پاس سے گزرے اور کہا: اے خالد، ہمارے ساتھ تیر اندازی کے لیے نکلو، تو میں نے دیر کر دی۔ انہوں نے کہا: اے خالد، آؤ، میں تمہیں وہ بات بتاؤں گا جو اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے بتائی تھی، اور میں اسے بالکل اسی طرح کہوں گا جیسے اللہ کے رسول ﷺ نے کہا تھا:
And Abu Dawud reported a narration that Al-Hakim authenticated and Al-Dhahabi confirmed – with the wording from Abu Dawud – from Khalid b. Zayd who said: I used to shoot against ’Uqbah b. ’Amir, and so he passed by me that day and said: O Khalid, come out with us to shoot, and so I delayed. He said: O Khalid, come, I will tell you something that the Messenger of Allah (pbuh) told me, and I will say it as the Messenger of Allah (pbuh) said:
. إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلاَثَةَ نَ فَرٍ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ « فِي صَنْ عَتِهِ الْخَيْ رَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنْبِلَهُ، وَارْمُوا وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَ رْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَ رْكَبُوا، لَيْسَ مِنْ اللَّهْوِ إِلاَّ ثَلاَثٌ : تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَ رَسَهُ، وَمُلاعَبَتُهُ أَهْلَهُ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ » وَنَ بْلِهِ، وَمَنْ تَ رَكَ الرَّمْيَ ب عَْدَ مَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِن هََّا نِعْمَةٌ تَ رَكَهَا أَوْ قَالَ كَفَرَهَا .
. إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلاَثَةَ نَ فَرٍ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ « فِي صَنْ عَتِهِ الْخَيْ رَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنْبِلَهُ، وَارْمُوا وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَ رْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَ رْكَبُوا، لَيْسَ مِنْ اللَّهْوِ إِلاَّ ثَلاَثٌ : تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَ رَسَهُ، وَمُلاعَبَتُهُ أَهْلَهُ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ » وَنَ بْلِهِ، وَمَنْ تَ رَكَ الرَّمْيَ ب عَْدَ مَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِن هََّا نِعْمَةٌ تَ رَكَهَا أَوْ قَالَ كَفَرَهَا .
"اللہ تعالیٰ تین شخصیات کو ایک تیر کے بدلے جنت میں داخل کرے گا: وہ بنانے والا جس کی بنانے کی نیت اچھی ہو، وہ چلانے والا، اور وہ جو اسے تھمائے؛ پس (تیر) چلاؤ اور (گھوڑے پر) سواری کرو، لیکن تمہارا تیر چلانا مجھے تمہاری سواری سے زیادہ محبوب ہے۔ انسان جس چیز سے بھی دل بہلاتا ہے وہ فضول ہے سوائے تین چیزوں کے: اپنے گھوڑے کی تربیت کرنا، اپنی بیوی کے ساتھ کھیل کود کرنا، اور اپنے کمان و تیر سے نشانہ بازی کرنا۔ اگر کوئی شخص مہارت حاصل کرنے کے بعد بیزاری کی وجہ سے تیر اندازی چھوڑ دے، تو یہ ایک نعمت ہے جسے اس نے چھوڑا ہے؛ یا (اس نے کہا کہ) یہ وہ چیز ہے جس کا اس نے ناشکری کی۔"
“Allah, Most High, will cause three persons to enter Paradise for one arrow: the maker when he has a good motive in making it, the one who shoots it, and the one who hands it; so shoot and ride, but your shooting is dearer to me than your riding. Everything with which a man amuses himself is vain except three (things): a man's training of his horse, his playing with his wife, and his shooting with his bow and arrow. If anyone abandons archery after becoming an adept through distaste for it, it is a blessing he has abandoned; or he said: for which he has been ungrateful”.
فوج کی ضروری تربیت کے بارے میں دلیل: اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) نے سورۃ التوبہ میں فرمایا: "بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس قیمت میں خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہوگی۔ پس وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، تو وہ مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں۔ یہ اس سے کیا ہوا ایک سچا وعدہ ہے جو تورات، انجیل اور قرآن میں اس پر لازم ہے۔ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا سچا کون ہے؟ پس اس سود وے میں خوشی مناؤ جو تم نے کیا ہے۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ (وہ لوگ) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اللہ کی حمد کرنے والے، (اللہ کی راہ میں) سفر کرنے والے، رکوع اور سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے، اور اللہ کی مقرر کردہ حدود کا خیال رکھنے والے ہیں۔ اور مومنوں کو خوشخبری دے دیں۔" (TMQ 111-112)۔ اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) نے خوشخبری پانے والوں میں شامل ہونے کے لیے محض اپنی جان اور مال دے دینے کو کافی قرار نہیں دیا، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی اضافہ فرمایا کہ وہ توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) کی مقرر کردہ حدود کا خیال رکھنے والے ہوں، ان پر قائم رہنے والے اور ان سے تجاوز نہ کرنے والے، بلکہ ان سے مناسب فاصلہ رکھنے والے ہوں۔ اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) نے فرمایا۔
The evidence regarding the necessary culturing of the Army: Allah (swt) said in the chapter of Al-Tawba: “Indeed, Allah has purchased from the believers their lives and their properties [in exchange] for that they will have Paradise. They fight in the cause of Allah, so they kill and are killed. [It is] a true promise [binding] upon Him in the Torah and the Gospel and the Qur'an. And who is truer to his covenant than Allah? So rejoice in your transaction which you have contracted. And it is that which is the great attainment; [Such believers are] the repentant, the worshippers, the praisers [of Allah], the travelers [for His cause], those who bow and prostrate [in prayer], those who enjoin what is right and forbid what is wrong, and those who observe the limits [set by] Allah. And give good tidings to the believers.” (TMQ 111-112). Allah (swt) did not make it sufficient to give one’s life and money to be from those who are given glad tidings, but rather added that they are repenters, worshippers, fasting, praying, enjoining the good and forbidding the evil and observing the limits set by Allah (swt), upright upon them and not transgressing them, rather there is a safe distance to kept away from them. Allah (swt) said.
”اے ایمان والو! ثابت قدم رہو اور ہمت نہ ہارو اور (میدانِ جنگ میں) مستعد رہو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔“ (TMQ 3:200)
“O you who have believed, persevere and endure and remain stationed and fear Allah that you may be successful.” (TMQ 3:200).
امام بخاری اور مسلم نے سہل بن سعد الساعدی سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
Al-Bukhari and Muslim reported from Sahl Bin Sa’d Al- Sa’idi that the Messenger of Allah (pbuh) said.
"اللہ کی راہ میں ایک دن کی رباط (اسلامی سرحدوں کی حفاظت) دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے، اور جنت میں تمہارے ایک شخص کے کوڑے کی جگہ بھی دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے، اور اللہ کی راہ میں شام یا صبح کا وقت گزارنا دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔"
. "رِبَاطُ ي وَْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْ رٌ مِنْ الدُّنْ يَا وَمَا عَلَيْ هَا، وَمَوْضِ عُ سَ وْطِ أَحَدِكُمْ مِنْ الْجَ نَّةِ خَيْ رٌ مِنْ الدُّنْ يَا وَمَا عَلَيْ هَا، وَالرَّوْحَةُ يَ رُوحُهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ الْغَدْوَةُ، خَيْ رٌ مِنْ الدُّنْ يَا وَمَا عَلَيْ هَا" . “Observing Ribat (e.g., guarding the Islamic frontier for the sake of Allah) for a single day is far better than the world and all that it contains. A place in Jannah as small as the whip of your horse is far better than the world and all that it contains. An endeavour (fighting) in the Cause of Allah in the evening or in the morning is far better than the world and all that it contains.".
اور البخاری نے عبداللہ بن ابی عوف سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
And Al-Bukhari reported from ’Abd Allah b. Abi ’Awfa that the Messenger of Allah (pbuh) said.
. "وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلالِ السُّ يُوفِ ".
. "وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلالِ السُّ يُوفِ ".
"جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔"
“Know that paradise lies under the shades of swords”.
امام بخاریؒ نے عبد الرحمن بن جابر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
Al-Bukhari reported from ’Abd Al-Rahman b. Jabir that the Messenger of Allah (pbuh) said.
. "مَا اغْبَ رَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَ تَمَسَّ هُ النَّارُ ".
. "مَا اغْبَ رَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَ تَمَسَّ هُ النَّارُ ".
"(یہ کبھی نہیں ہوگا) کہ اللہ کی راہ میں (جہاد) کرتے ہوئے گرد آلود پاؤں آگ کو چھوئیں گے۔"
“(never happen) that the feet soiled with dust while (doing Jihad) in the way of Allah will be touched by the fire”.
امام حاکم نے ایک روایت نقل کی ہے جسے انہوں نے صحیح قرار دیا ہے، اور امام ذہبی نے ان کی اس تحقیق کی تصدیق کی ہے، کہ عمران بن حسیانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
Al-Hakim reported a narration which he authenticated, and Al-Dhahabi confirmed his authentication, from ’Imran b. Husayn that the Messenger of Allah (pbuh) said.
. "مَقَامُ الرَّجُلِ فِي الصَّفِّ فِي سَبِيلِ اللهِ أَفْضَلُ عِنْدَ اللهِ مِنْ عِبَادَةِ الرَّجُلِ سِتِّينَ سَنَة " .
. "مَقَامُ الرَّجُلِ فِي الصَّفِّ فِي سَبِيلِ اللهِ أَفْضَلُ عِنْدَ اللهِ مِنْ عِبَادَةِ الرَّجُلِ سِتِّينَ سَنَة " .
اللہ کے راستے میں (جہاد کی) صفوں میں ایک مرد کا مقام اللہ کے نزدیک اس کی ساٹھ سالہ عبادت سے بہتر ہے۔
The place of a man in the lines (fighting) in the Cause of Allah is better to Allah than sixty years of a his worship”.
امام بخاریؒ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔
Al-Bukhari reported from Abu Hurayrah that the Prophet (phuh) said.
. "إِنَّ فِي الْجَ نَّةِ مِائَةَ دَرَجَ ةٍ أَعَ دَّهَ ا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَا بَ يْنَ الدَّرَجَتَ يْنِ كَمَا بَ يْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ " .
. "إِنَّ فِي الْجَ نَّةِ مِائَةَ دَرَجَ ةٍ أَعَ دَّهَ ا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَا بَ يْنَ الدَّرَجَتَ يْنِ كَمَا بَ يْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ " .
"جنت میں سو درجات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نے ان لوگوں کے لیے تیار کیے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں؛ اور ان درجات میں سے کسی دو کے درمیان کا فاصلہ زمین اور آسمان کے درمیان کے فاصلے کی مانند ہے"۔
“In Jannah there are a hundred grades which Allah has prepared for those who fight in His Cause; and the distance between any two of those grades is like the distance between the heaven and the earth”.
مسلم نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:
Muslim reported from Anas who said:
. قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ : "فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ وَالأَرْضُ، قَالَ: يَ قُولُ عُمَيْ رُ بْنُ الْحُمَامِ الأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَنَّةٌ عَرْضُهَا مَا يَحْمِلُكَ عَلَى : السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ؟ قَالَ: نَ عَمْ، قَالَ: بَخٍ بَخٍ، فَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ قَ وْلِكَ بَخٍ بَخٍ ؟ قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ رَجَاءَةَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ: فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا، فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَ رَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْ هُنَّ، ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَ تَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِن هََّا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ، قَالَ: فَ رَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَ لَهُمْ حَ تَّى قُتِلَ " .
. قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ : "فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ وَالأَرْضُ، قَالَ: يَ قُولُ عُمَيْ رُ بْنُ الْحُمَامِ الأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَنَّةٌ عَرْضُهَا مَا يَحْمِلُكَ عَلَى : السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ؟ قَالَ: نَ عَمْ، قَالَ: بَخٍ بَخٍ، فَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ قَ وْلِكَ بَخٍ بَخٍ ؟ قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ رَجَاءَةَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ: فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا، فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَ رَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْ هُنَّ، ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَ تَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِن هََّا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ، قَالَ: فَ رَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَ لَهُمْ حَ تَّى قُتِلَ " .
"جب مشرکین قریب آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، 'اب کھڑے ہو جاؤ اور اس جنت کی طرف بڑھو جو آسمانوں اور زمین جتنی وسیع ہے۔' عمیر بن الحمام رضی اللہ عنہ نے پوچھا: 'کیا جنت آسمانوں اور زمین جتنی وسیع ہے؟' رسول اللہ ﷺ نے اس کی تائید میں جواب دیا۔ عمیر نے کہا: 'سبحان اللہ!' رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا۔ انہوں نے جواب دیا: 'کچھ نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ! بس یہ امید ہے کہ میں جنت کے رہنے والوں میں سے ہو جاؤں۔' رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، 'تم یقیناً ان میں سے ہو گے۔' پھر عمیر نے اپنے تیر دان سے کچھ کھجوریں نکالیں اور انہیں کھانا شروع کیں، لیکن تھوڑی دیر بعد انہوں نے کہا: 'اگر میں اپنی کھجوریں کھانے تک زندہ رہا، تو اس کا مطلب ایک لمبی عمر ہوگی۔' چنانچہ انہوں نے اپنے پاس موجود کھجوریں پھینک دیں اور پھر دشمن سے اس وقت تک لڑتے رہے جب تک کہ وہ شہید نہ ہو گئے۔" جہاد کی ترغیب کی دلیل: اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) نے فرمایا۔
“When the polytheists came near, the Messenger of Allah (pbuh) (PBUH) said, "Now stand up and proceed towards Jannah which is as wide as are the heavens and the earth." 'Umair bin Al-Humam (May Allah be pleased with him) asked: "Is Jannah as wide as are the heaven and the earth?" The Messenger of Allah (pbuh) replied in the affirmative. 'Umair remarked: "Great!" The Messenger of Allah (pbuh) asked him what had urged him to say so. He replied: "Nothing, O Messenger of Allah! But hope that I might become one of the inhabitants of Jannah." The Messenger of Allah (pbuh) said, "You will definitely be among them." 'Umair then took some dates out of his quiver and began to eat them, but after a short time he said: "If I survive till I eat my dates, it will mean a long life." So he threw away the dates which he had with him and then fought with the enemy till he was killed.” The evidence of encouragement to fight: Allah (swt) said.
"پس اللہ کی راہ میں لڑئیے، [اے محمد ﷺ] آپ کی ذمہ داری صرف آپ ہی تک ہے، اور مومنوں کو (اپنی مدد کے لیے) اکٹھا کیجیے تاکہ اللہ تعالیٰ کافروں کی طاقت کو روک سکے۔ اور اللہ ہی کی طاقت زیادہ ہے اور اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔" (TMQ 4:84)۔ اور اس نے (سبحانہ و تعالیٰ) فرمایا۔
“So fight, [O Muhammad], in the cause of Allah; you are not held responsible except for yourself. And encourage the believers [to join you] that perhaps Allah will restrain the [military] might of those who disbelieve. And Allah is greater in might and stronger in [exemplary] punishment.” (TMQ 4:84). And He (swt) said.
”اے نبی ﷺ! مومنوں کو جنگ کے لیے ابھاریں۔ اگر تم میں سے بیس ثابت قدم ہوں تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے، اور اگر تم میں سے ایک سو ثابت قدم ہوں تو وہ ایک ہزار کا مقابلہ کر لیں گے جو کافر ہیں، کیونکہ وہ ایسی قوم ہے جو عقل نہیں رکھتی۔“ [TMQ 8:65]
“O Prophet (phuh), urge the believers to battle. If there are among you twenty [who are] steadfast, they will overcome two hundred. And if there are among you one hundred [who are] steadfast, they will overcome a thousand of those who have disbelieved because they are a people who do not understand.” (TMQ 8:65).
ابن اسحاقؒ نے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:
Ibn Ishaq reported saying:
. إِلَى النَّاسِ فَحَرَّضَهُمْ وَقَالَ: وَالَّذِي نَ فْسُ مُحَمَّدٍ "ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ بِيَدِهِ، لاَ ي قَُاتِلُهُمُ اليَ وْمَ رَجُلٌ فَ يُ قْتَلُ صَابِراً مُحْتَسِباً مُقْبِلاً غَيْ رَ مُدْبِرٍ إِلاَّ أَدْخَلَهُ الل هُ الْجَ نَّةَ ... " .
. إِلَى النَّاسِ فَحَرَّضَهُمْ وَقَالَ: وَالَّذِي نَ فْسُ مُحَمَّدٍ "ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ بِيَدِهِ، لاَ ي قَُاتِلُهُمُ اليَ وْمَ رَجُلٌ فَ يُ قْتَلُ صَابِراً مُحْتَسِباً مُقْبِلاً غَيْ رَ مُدْبِرٍ إِلاَّ أَدْخَلَهُ الل هُ الْجَ نَّةَ ... " .
پھر اللہ کے رسول ﷺ لوگوں کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں اس طرح ترغیب دی: "اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے، جو شخص آج صبر کرتے ہوئے، اللہ سے اجر کی امید رکھتے ہوئے اور پیچھے ہٹنے کے بجائے حملہ کرتے ہوئے لڑے اور شہید ہو جائے، تو اللہ اسے جنت میں داخل فرما دے گا۔"
“Then the Messenger of Allah (pbuh) went out to the people and incited (encouraged) them by saying: By the One who the soul of Muhammad is in His Hand, he who fights today and is killed (martyred) maintaining patience, expecting reward from Allah, and attacking and not retreating, then Allah will cause him to enter Paradise”.
امام احمد نے ایک صحیح سند کے ساتھ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جنہوں نے کہا:
Ahmad reported with an authentic chain from Abu Hurayrah who said:
. "... فَ نَظَرَ فَ رَآنِي فَ قَالَ: يَا أَبَا هُرَيْ رَةَ، فَ قُلْتُ: لَبَّ يْكَ رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ فَ قَالَ: اهْتِفْ لِي بِالأَنْصَارِ وَلاَ يَأْتِينِي إِلاَّ أَنْصَارِ ي، فَ هَتَ فْتُ بِهِمْ فَجَاءُوا، فَأَطَافُوا بِرَسُولِ اللَّهِ فَ قَالَ: تَ رَوْنَ إِلَى أَوْ بَاشِ قُ رَيْشٍ وَأَتْ بَاعِهِمْ ؟ ثُمَّ قَ الَ بِيَدَيْهِ إِحْ دَاهُ مَ ا عَلَى الأُخْرَى: حَصْدًا حَتَّى تُ وَافُونِي بِالصَّفَا ... " .
. "... فَ نَظَرَ فَ رَآنِي فَ قَالَ: يَا أَبَا هُرَيْ رَةَ، فَ قُلْتُ: لَبَّ يْكَ رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ فَ قَالَ: اهْتِفْ لِي بِالأَنْصَارِ وَلاَ يَأْتِينِي إِلاَّ أَنْصَارِ ي، فَ هَتَ فْتُ بِهِمْ فَجَاءُوا، فَأَطَافُوا بِرَسُولِ اللَّهِ فَ قَالَ: تَ رَوْنَ إِلَى أَوْ بَاشِ قُ رَيْشٍ وَأَتْ بَاعِهِمْ ؟ ثُمَّ قَ الَ بِيَدَيْهِ إِحْ دَاهُ مَ ا عَلَى الأُخْرَى: حَصْدًا حَتَّى تُ وَافُونِي بِالصَّفَا ... " .
"...پھر انہوں نے دیکھا اور مجھے دیکھا، اور فرمایا: اے ابو ہریرہ۔ میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول ﷺ، تو انہوں نے فرمایا: انصار کو میرے پاس بلاؤ، اور ان کے علاوہ کوئی اور میرے پاس نہ آئے۔ چنانچہ میں نے انہیں بلایا، اور وہ آگئے؛ پھر وہ اللہ کے رسول ﷺ کے گرد جمع ہو گئے، جنہوں نے فرمایا: کیا تم قریش کے غنڈوں اور ان کے پیروکاروں کو دیکھ رہے ہو؟: انہیں قتل کرو یہاں تک کہ تم مجھ سے صفا پر ملو (اور وہ) اپنے ہاتھ باندھے ہوئے تھے۔"
“...so he looked and saw me, and said: O Abu Hurayrah. I said: I am present, I am present Messenger of Allah, and so he said: Call the Ansar (supporters) to me, and no one other than them should come to me. So I called them, and they came; then they came around the Messenger of Allah (pbuh) who said: Do you see the rabble of Quraysh and their followers?: kill them until you meet me at Safa (and he was) tying his hands together.”.
امام مسلمؒ نے حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا،
Muslim reported from ’Abbas b. ’Abd Al-Muttalib who said,
. أَيْ : يَ وْمَ حُنَ يْنٍ ... فَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ "شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ عَبَّاسُ، نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ، فَ قَالَ عَبَّاسٌ - وَكَانَ رَجُلاً صَيِّتاً - فَ قُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي: أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ، قَالَ: فَ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَ هُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَ قَرِ عَلَى أَوْلاَدِهَا، فَ قَالُوا: يَا لَ بَّ يْكَ يَا لَ بَّ يْكَ ... " .
. أَيْ : يَ وْمَ حُنَ يْنٍ ... فَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ "شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ عَبَّاسُ، نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ، فَ قَالَ عَبَّاسٌ - وَكَانَ رَجُلاً صَيِّتاً - فَ قُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي: أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ، قَالَ: فَ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَ هُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَ قَرِ عَلَى أَوْلاَدِهَا، فَ قَالُوا: يَا لَ بَّ يْكَ يَا لَ بَّ يْكَ ... " .
"میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شرکت کی... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عباس! سمورہ کے لوگوں کو پکارو (وہ درخت جس کے نیچے صحابہ کرام نے صلح حدیبیہ سے قبل نبی کریم ﷺ سے بیعتِ رضوان کی تھی)۔ عباس (جن کی آواز بلند تھی) نے پوری قوت سے پکارا: سمورہ کے لوگ کہاں ہیں؟ اور اللہ کی قسم، جب انہوں نے میری آواز سنی تو وہ (ہمارے پاس) اس طرح واپس آئے جیسے گائے اپنے بچھڑوں کی طرف آتی ہے، اور کہنے لگے: ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں۔"
“I witnessed the day of Hunayn with the Messenger of Allah (pbuh) …The Messenger of Allah (pbuh) said O ’Abbas, call out to the people of Samura (the tree under which the companions gave the Prophet (phuh) the Bay’a of Ridwan before the treaty of Al- Hudaybiyah). ’Abbas (who was a man with a loud voice) called out at the top of his voice: Where are the people of Samura? And by Allah, when they heard my voice, they came back (to us) as cows come back to their calves, and said: We are present, we are present”.
میدانِ جنگ میں دشمن کے مقابلے میں صبر اور زیادہ استقامت اختیار کرنے کے دلائل: اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) نے فرمایا:
The evidences to have patience and more endurance than the enemy at the battlefield: Allah (swt) said,
”اے ایمان والو! جب تمہارا مقابلہ کسی گروہ سے ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔“ [سورۃ الانفال 8:45]۔ اور اس نے (سبحانہ و تعالیٰ) فرمایا،
“O you who have believed, when you encounter a company [from the enemy forces], stand firm and remember Allah much that you may be successful.” (TMQ 8:45). And He (swt) said,
”اے ایمان والو! ثابت قدم رہو اور (مصیبت پر) صبر کا دامن نہ چھوڑو اور (دین پر) ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔“ [سورۃ آل عمران 3:200]۔ اور اس (سبحانہ و تعالیٰ) نے فرمایا،
“O you who have believed, persevere and endure and remain stationed and fear Allah that you may be successful.” (TMQ 3:200). And He (swt) said,
”پھر بے شک آپ کا رب ان لوگوں کے لیے جنہوں نے (اپنا دین چھوڑنے پر) مجبور کیے جانے کے بعد ہجرت کی اور پھر (اللہ کی راہ میں) جہاد کیا اور صبر کیا، بے شک آپ کا رب اس کے بعد بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ (سورۃ النحل 16:110)
“Then, indeed your Lord, to those who emigrated after they had been compelled [to renounce their religion] and thereafter fought [for the cause of Allah] and were patient - indeed, your Lord, after that, is Forgiving and Merciful”. (TMQ 16:110).
مسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی جنہوں نے کہا۔
Muslim reported from Jabir who said.
. » عَلَى الْمَوْتِ، إِنَّمَا بَايَ عْنَاهُ عَلَى أَنْ لا نَفِرَّ لَمْ ن بَُايِعْ رَسُولَ اللهِ « .
. » عَلَى الْمَوْتِ، إِنَّمَا بَايَ عْنَاهُ عَلَى أَنْ لا نَفِرَّ لَمْ ن بَُايِعْ رَسُولَ اللهِ « .
"ہم نے رسول اللہ ﷺ سے موت کے وقت بیعت نہیں کی تھی، بلکہ ہم نے (جنگ سے) بھاگنے نہ کرنے کی بیعت کی تھی۔"
“We did not give plege to the Messenger of Allah (pbuh) upon death, we rather pledged not to flee (from battle)”.
امام بخاریؒ نے عبداللہ بن ابی اوفہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
Al-Bukhari reported from ’Abdullah Bin Abi Awfa that the Messenger of Allah (pbuh) said.
. "إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا" .
. "إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا" .
”جب تمہارا ان سے مقابلہ ہو تو صبر سے کام لو“۔ لشکر کی ایسی تیاری کا ثبوت کہ وہ اچانک حملے کا شکار نہ ہوں: البخاری نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔
“When you meet them (on the battlefield), have patience”. The proof for preparing the Army such that they are not taken by surprise: Al-Bukhari reported from Abu Hurayrah that the Prophet (phuh) said.
. "... طُوبَى لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَ رَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَشْعَثَ رَأْسُهُ، مُغْبَ رَّةٍ قَدَمَاهُ، إِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِ رَاسَ ةِ، وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَ ةِ كَانَ فِي السَّاقَ ةِ، إِنِ اسْ تَأْذَنَ لَمْ ي ؤُْذَنْ لَهُ، وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّعْ " .
. "... طُوبَى لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَ رَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَشْعَثَ رَأْسُهُ، مُغْبَ رَّةٍ قَدَمَاهُ، إِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِ رَاسَ ةِ، وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَ ةِ كَانَ فِي السَّاقَ ةِ، إِنِ اسْ تَأْذَنَ لَمْ ي ؤُْذَنْ لَهُ، وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّعْ " .
"جنت (طوبٰی جنت کا ایک درخت ہے) اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے لگام تھامے ہوئے ہو، جس کے بال بکھرے ہوئے ہوں اور اس کے قدم مٹی سے اٹے ہوئے ہوں۔ اگر اسے لشکر کی پیش پیش میں مقرر کیا جائے تو وہ اپنی نگہبانی کے عہدے پر مکمل طور پر مطمئن ہو، اور اگر اسے لشکر کے پچھلے حصے میں مقرر کیا جائے تو وہ اپنے عہدے کو اطمینان سے قبول کرے؛ (وہ اتنا سادہ اور بے تکلف ہے کہ) اگر وہ اجازت مانگے تو اسے اجازت نہیں دی جاتی، اور اگر وہ سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہیں کی جاتی۔"
“Paradise (Tuba is a tree in Paradise) is for one who holds the reins to strive in the cause of Allah, with his hair unkempt and his feet covered with dust. If he is appointed in the vanguard, he is perfectly satisfied with his post of guarding, and if he is appointed in the rearward, he accepts his post with satisfaction; (he is so simple and unambiguous that) that if he asks for permission, he is not permitted, and if he intercedes, his intercession is not accepted”.
Al-Tirmidhi reported a narration that he considered Hasan from Ibn ’Abbas who said: I heard the Messenger of Allah (pbuh) say. . "عَ يْ نَانِ لا تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
Al-Tirmidhi reported a narration that he considered Hasan from Ibn ’Abbas who said: I heard the Messenger of Allah (pbuh) say. . "عَ يْ نَانِ لا تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
"دو آنکھیں جہنم کی آگ کو نہیں چھوئیں گی: ایک آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئے، اور ایک آنکھ جو اللہ کی راہ میں رات بھر پہرہ دیتے ہوئے گزارے۔"
“Two eyes will not be touched by the hellfire: an eye that weeps out of the fear of Allah, and an eye that spends the night on guard in the cause of Allah”.
امام حاکم نے ایک ایسی روایت نقل کی ہے جسے انہوں نے صحیح قرار دیا ہے، اور امام ذہبی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے، کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔
Al-Hakim reported a narration he authenticated, and which Al-Dhahabi confirmed, from Ibn Umar that the Prophet (phuh) said.
. "أَلاَ أُنْبِئُكُمْ بِلَيْ لَةٍ أَفْضَلَ مِنْ لَيْ لَةِ القَدْرِ، حَارِسٌ حَرَسَ فِي أَرْضِ خَوْفٍ لَعَلَّهُ أَنْ لا يَ رْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ " .
. "أَلاَ أُنْبِئُكُمْ بِلَيْ لَةٍ أَفْضَلَ مِنْ لَيْ لَةِ القَدْرِ، حَارِسٌ حَرَسَ فِي أَرْضِ خَوْفٍ لَعَلَّهُ أَنْ لا يَ رْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ " .
"کیا میں تمہیں اس رات کے بارے میں نہ بتاؤں جو لیلۃ القدر سے بہتر ہے؟ (یہ وہ رات ہے جس میں۔۔۔) ایک پہرے دار (جہاد میں) جو جنگی علاقے (خوفناک مقام) میں پہرہ دے رہا ہو اور اسے یقین نہ ہو کہ وہ اپنے اہل و عیال کے پاس واپس لوٹ سکے گا۔"
“Should I not tell you about a night better than the night of Qadar? (It is one during which ..) A guard (in Jihad) guarding in a land of war (fear)and not sure wheather he will be back to his family.”.