دفعہ 79
Article 79
قاضی، محتسب اور مظالم کے جج کو ریاست بھر کے تمام مسائل پر فیصلہ سنانے کے لیے عمومی طور پر تعینات کیا جا سکتا ہے، یا متبادل کے طور پر انہیں کسی خاص مقام کے لیے اور مخصوص اقسام کے مقدمات پر فیصلہ دینے کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
The Qadi, the Muhtasib and the Madhalim judge may be given a general appointment to pronounce judgement on all problems throughout the State, or alternatively they can be given an appointment to a particular location and to give judgement on particular types of cases.
دلیل رسول اللہ ﷺ کے افعال ہیں، کیونکہ آپ ﷺ نے علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) کو یمن کے لیے قاضی مقرر فرمایا، جیسا کہ احمد نے علی (رضی اللہ عنہ) سے ایک صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے جنہوں نے کہا۔
The evidence is the actions of the Messenger (pbuh) , since he appointed ‘Ali b. Abi Talib (ra) as a judge for Yemen as reported by Ahmad with an authentic chain from Ali (ra) who said.
. إيلَى الْيَمَ ي ن، قَالَ: فَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّيه، تَ بْ عَثُيني إيلَى قَ وْمٍ )ب عََثَيني رَسُولُ اللَّيه اللَّهُمَّ ثَ بِّتْ « : أَسَنَّ يمنِّي وَأَنَا حَ ي ديثٌ لاَ أُبْ ي صرُ الْقَضَاءَ، قَالَ: فَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْيري وَقَالَ لِسَانَهُ وَاهْدِ قَ لْبَهُ، يَا عَلِيُّ، إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلاَ تَ قْضِ بَ يْ نَ هُمَا حَتَّى تَسْمَعَ مِنْ قَالَ: فَمَا ،» الآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الأَوَّلِ، فَإِنَّكَ إِذَا فَ عَلْتَ ذَلِكَ تَ بَ يَّنَ لَكَ الْقَضَاء اخْتَ لَفَ عَلَيَّ قَضَاءٌ ب عَْدُ، أَوْ مَا أَشْكَلَ عَلَيَّ قَضَاءٌ ب عَْدُ ( .
. إيلَى الْيَمَ ي ن، قَالَ: فَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّيه، تَ بْ عَثُيني إيلَى قَ وْمٍ )ب عََثَيني رَسُولُ اللَّيه اللَّهُمَّ ثَ بِّتْ « : أَسَنَّ يمنِّي وَأَنَا حَ ي ديثٌ لاَ أُبْ ي صرُ الْقَضَاءَ، قَالَ: فَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْيري وَقَالَ لِسَانَهُ وَاهْدِ قَ لْبَهُ، يَا عَلِيُّ، إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلاَ تَ قْضِ بَ يْ نَ هُمَا حَتَّى تَسْمَعَ مِنْ قَالَ: فَمَا ،» الآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الأَوَّلِ، فَإِنَّكَ إِذَا فَ عَلْتَ ذَلِكَ تَ بَ يَّنَ لَكَ الْقَضَاء اخْتَ لَفَ عَلَيَّ قَضَاءٌ ب عَْدُ، أَوْ مَا أَشْكَلَ عَلَيَّ قَضَاءٌ ب عَْدُ ( .
"رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن بھیجا، تو میں نے عرض کیا: آپ نے مجھے تجربہ کار لوگوں کے پاس بھیجا ہے جبکہ میں ابھی جوان ہوں! اور میں نہیں جانتا کہ فیصلہ کیسے کیا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: 'اے اللہ! اس کے دل کو ہدایت دے اور اس کی زبان کو ثابت قدم رکھ۔' آپ ﷺ نے فرمایا: 'جب دو جھگڑنے والے تمہارے سامنے بیٹھیں، تو اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک تم دوسرے کا موقف نہ سن لو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارے لیے فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا۔' علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے بعد مجھے دو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی شک نہیں ہوا۔"
“The Messenger of Allah (pbuh) sent me to Yemen, and I said: You have sent me to people of experience, and I am young! And I don’t know how to judge. He struck me on the chest and said:'O Allah, guide his heart and make his tongue steadfast. He said: When the two litigants sit in front of you, do not decide till you hear what the other has to say. If you do that, judgement will become clear to you. Ali said: after that I never doubted in passing judgment between two people.”.
انہوں نے معاذؓ کو یمن کے ایک حصے پر قاضی مقرر فرمایا، ابو عمر بن عبدالبَرّ نے الاستیعاب میں ذکر کیا ہے۔
He appointed Mu’adh as a judge over a part of Yemen, Abu Umar b. ‘Abd Al-Barr mentioned in Al-Isti’ab.
بَ يْنَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَبَ يْنَ جَعْفَرِ بْنِ )وقال ابن إسحق: آخَى رَسُولُ اللهِ قَاضِياً إِلَى الْجَنَدِ أَبِي طَالِبٍ، شَهِدَ العَقَبَةَ وَبَدْراً وَالْمَشَاهِدَ كُلَّهَا، وَبَ عَثَهُ رَسُولُ اللهِ مِنَ اليَمَنِ، ي عَُلِّمُ النَّاسَ القُرْآنَ وَشَ رائِعَ الإِسْلاَمِ، وَيَ قْضِي بَ يْ نَ هُمْ. وَجَعَلَ إِلَيْهِ قَ بْضَ الصَّدَقَاتِ مِنَ الْعُمَّالِ ...( .
بَ يْنَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَبَ يْنَ جَعْفَرِ بْنِ )وقال ابن إسحق: آخَى رَسُولُ اللهِ قَاضِياً إِلَى الْجَنَدِ أَبِي طَالِبٍ، شَهِدَ العَقَبَةَ وَبَدْراً وَالْمَشَاهِدَ كُلَّهَا، وَبَ عَثَهُ رَسُولُ اللهِ مِنَ اليَمَنِ، ي عَُلِّمُ النَّاسَ القُرْآنَ وَشَ رائِعَ الإِسْلاَمِ، وَيَ قْضِي بَ يْ نَ هُمْ. وَجَعَلَ إِلَيْهِ قَ بْضَ الصَّدَقَاتِ مِنَ الْعُمَّالِ ...( .
ابن اسحاق نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ نے معاذ بن جبل اور جعفر بن ابی طالب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا؛ انہوں نے عقبہ اور بدر اور تمام واقعات میں شرکت کی، اور اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں یمن کے علاقے الجناد میں لوگوں کو قرآن اور اسلام کی شریعت کی تعلیم دینے اور ان کے درمیان فیصلے کرنے اور عاملین سے صدقہ جمع کرنے کے لیے بھیجا۔۔۔ آپ ﷺ نے ایک خاص معاملے میں فیصلہ کرنے کے لیے عمرو بن العاص کو مقرر فرمایا۔ ابن قدامہ نے المغنی میں ذکر کرتے ہوئے کہا ہے۔
“Ibn Ishaq said: The Messenger of Allah (pbuh) made a brotherhood between Mu’adh Bin Jabal and Ja’far b. Abi Talib; they witnessed Al-Aqaba and Badr and all of the events, and the Messenger of Allah (pbuh) sent him to Al-Janad in Yemen to teach the people Quran and the Shari’ah of Islam, and to judge between them, and to collect the Sadaqah from the workers…” He (pbuh) appointed Amr b. Al-‘As to give judgement in one particular case. Ibn Qudamah mentioned in Al-mughni saying.
. فَ قَالَ: )وَعَنْ عُقْبَةَ بْ ي ن عَايمرٍ قَالَ: جَاءَ خَصْمَا ي ن يََْ تَ ي صمَا ي ن إيلَى رَسُويل اللهي قُ لْتُ: عَلاَمَ أَقْ ي ضي؟ قَالَ: .» وَإينْ كَانَ « : قُ لْتُ: أَنْتَ أَوْلَى بيذَليكَ. قَالَ » اقْضِ بَ يْ نَ هُمَا « )» اقْضِ فَإِنْ أَصَبْتَ فَ لَكَ عَشَرَةُ أُجُورٍ، وإِنْ أَخْطَأْتَ فَ لَكَ أَجْرٌ وَاحِدٌ «.
. فَ قَالَ: )وَعَنْ عُقْبَةَ بْ ي ن عَايمرٍ قَالَ: جَاءَ خَصْمَا ي ن يََْ تَ ي صمَا ي ن إيلَى رَسُويل اللهي قُ لْتُ: عَلاَمَ أَقْ ي ضي؟ قَالَ: .» وَإينْ كَانَ « : قُ لْتُ: أَنْتَ أَوْلَى بيذَليكَ. قَالَ » اقْضِ بَ يْ نَ هُمَا « )» اقْضِ فَإِنْ أَصَبْتَ فَ لَكَ عَشَرَةُ أُجُورٍ، وإِنْ أَخْطَأْتَ فَ لَكَ أَجْرٌ وَاحِدٌ «.
عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ دو جھگڑنے والے اللہ کے رسول ﷺ کے پاس اپنا تنازع لے کر آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "ان کے درمیان فیصلہ کرو۔" میں نے عرض کیا: "اس کام میں آپ کا مجھ پر حکم چلتا ہے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "پھر بھی (فیصلہ کرو)۔" میں نے عرض کیا: "میں کس بنیاد پر فیصلہ کروں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "فیصلہ کرو، اگر تم صحیح فیصلہ کرو گے تو تمہیں دس اجر ملیں گے اور اگر تم غلطی کرو گے تو تمہیں ایک اجر ملے گا۔" ابن قدامہ نے کہا، اور احمد نے یہی روایت ایک ایسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جس کے تمام راوی عقبہ بن عامر سے لے کر نبی ﷺ تک مستند ہیں، سوائے اس کے کہ انہوں نے یہ الفاظ کہے: "فَإِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ فَلَكَ عَشَرَةُ أُجُورٍ، وَإِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ أَجْرٌ وَاحِدٌ"۔
“From ‘Uqbah b. Amir who said: Two litigants brought their dispute to the Messenger of Allah (pbuh), and so he said – Judge between them. I said: You have supremacy over me to do that. He said: Even if. I said: On what should I judge? He said: Judge, and if you are right, you will have ten rewards and if you make a mistake, you will get one reward”. Ibn Qudamah said, and Ahmad reported the same narration with a chain whose men were all authentic to ‘Uqbah b. Amir from the Prophet (phuh) , except that he said. . فَإِنِ اجْتَ هَدْتَ فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ فَ لَكَ عَشَرَةُ أُجُورٍ، وَإِنِ اجْتَ هَدْتَ فَأَخْطَأْتَ « » فَ لَكَ أَجْرٌ وَاحِدٌ .
"اور اگر تم اجتہاد کرو اور تمہارا فیصلہ درست ہو، تو تمہارے لیے دس نیکیاں ہیں، اور اگر تم اجتہاد کرو اور تم سے غلطی ہو جائے، تو تمہارے لیے ایک نیکی ہے۔"
“And if you do Ijtihad and you are right, you will have ten rewards, and if you do Ijtihad and you have erred, you will get one reward”.